حضورِ شاہ چلیں گے، صدا کریں گے ہم
جو کوئی زخم سے چیخ اُٹھا، کیا کریں گے ہم
فضا کے محبسِ بے رنگ سے نکلنے کو
بہت ہُوا تو پرندے رہا کریں گے ہم
ہمارا ظرف اگر آزمانا چاہتا ہے
وہ ابتدا تو کرے، انتہا کریں گے ہم
کسی بلا سے محبت گزرنا چاہتی ہے
خراج اس کو مگر کیا ادا کریں گے ہم
نہ دیکھ مرتی ہوئی رات کی یہ آخری سانس
نہ دن ہی نکلا تو سورج کو کیا کریں گے ہم
ہزار داغِ شبِ غم، گُلِ سحر کا صلہ
تو کیا ملے گا اگر دل بُرا کریں گے ہم
درِ یقیں درِ امکاں کے ساتھ ہے خالد
سو ایک دَر کو کبھی نیم وا کریں گے ہم
Related posts
-
افق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا
نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک... -
آہ سنبھلی ۔۔۔ یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں
یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ... -
سیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا
سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو...
